عوام کی فلاح و صلاح
✍️ ثناءالمصطفیٰ مصباحی
دارالعلوم حنفیہ امام احمد رضا، لکھنؤ، یوپی، ہند
................................................................
*محرم کا دس روزہ پروگرام، کتنا مفید ہو سکتا ہے؟*
ہم پرورش لوح وقلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
(فیض احمد فیض)
آج کل مسلم معاشرے میں پروگرام کا رجحان بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے، محرم میں 10روزہ پروگرام، ربیع الاول میں 12روزہ پروگرام، ربیع الآخر میں 11روزہ پروگرام اور رجب المرجب میں 6روزہ پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ اپنے معاشرے میں لوگوں کا رجحان دین کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے اس کے لیے ہم انہیں مبارکباد پیش کر رہے ہیں۔ لیکن اس پروگرام کے دیرپا نتائج کیابربآمد ہوسکتے ہیں ہم نے کبھی اس پر غور کیا ہے؟ اب تو حال یہ ہوگیا ہے کہ بچوں بچوں کو تاریخ حسین و شہداے کربلا یاد ہے لیکن وہ ارکان اسلام، شعائر اسلام اور معمولات اسلام سے بالکل غافل ہیں۔ میری مراد یہ نہیں کہ آپ فضائل اہل بیت اور شہداے کربلا کا تذکرہ کرنا چھوڑ دیں بلکہ میری مراد یہ ہے کہ اگر اس پروگرام کو منظم طریقے سے کارآمد بنانے کی کوشش کریں تو ان شاءاللہ اس کے بہت اچھے رزلٹ آئیں گے۔
_____________________________________
یہ اکیسویں صدی چل رہی ہے، حالات بہت نازک ہیں، الحاد بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، مذہب سے بیزاری ایک فیشن بنتا جا رہا ہے، ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل موجود ہے، اسلام مخالف میڈیا ہمارے گھروں کے اندر گھس کر اپنا پورا کام کر رہا ہے۔ دنیاوی اعتبار سے پڑھے لکھے مسلم لوگ ملحد ہوتے چلے جارہے ہیں، ملحدین کے لٹریچر بہت تیزی کے ساتھ مارکیٹ میں بک رہے ہیں، اگر علماے کرام نے اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا اور اس پر لائحۂ عمل تیار نہیں کیا تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کے وقت کافر ہو گا، شام کے وقت مومن اور صبح کے وقت کافر ہو گا۔
سنن الترمذی: 2195
یہ وہی زمانہ چل رہا ہے۔ ہمارے 99% فیصد مسلم بچیاں اور بچے کالجز اور یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کررہے جہاں کا ٹیچر اسلام مخالف، منتظمین اسلام مخالف اور نصاب بھی اسلام مخالف۔ تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں سنجیدگی سے اس چیز پر غور کرنا ہے کہ انہیں اسلام کی طرف کیسے لایا جائے انہیں دین کس طرح سکھایا جائے۔
_____________________________________
ہماری بچیاں اور بچے جب کالج اور یونیورسٹی جاتے ہیں تو ان کے غیر مسلم دوست جب ان سے یہ سوال کرلیتے ہیں کہ بھائی! ہماری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ:
*1۔ اسلامی شریعت میں جب چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہےتو آپ کے رسول نے گیارہ عورتوں سے شادی کیوں کیا؟*
*2۔ مذہب اسلام نے طلاق کا اختیار صرف مرد ہی کو کیوں دیاہے عورت کو کیوں نہیں دیا؟*
*3۔ وراثت میں مرد کے مقابلے میں عورت کو آدھا حصہ کیوں دیا جاتا ہے؟ اس طرح کے ڈھیروں سوالات کیے جاتے ہیں۔*
ظاہر سی بات ہے اس کا جواب ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا ہے۔
اور دوسری طرف ہمارے نوجوانوں کا المیہ ہے کہ فلم، کرکٹ اور پالیٹکس کی ان کو پوری معلومات ہوتی ہے لیکن اپنے دین کی کچھ نہیں۔
معاذاللہ! ہماری قوم اسلام کے بارے میں کنفیوز ہورہی ہے کہ کیا صحیح اور کیا غلط یا ہر مذہب صحیح ہے اور خدا تک پہنچنے کے راستے الگ الگ ہیں اس لیے علماے اسلام سے ہماری گزارش ہے کہ اس پہلو پر غور فرمائیں، نوجوانوں پر کام کریں تاکہ یہ نوجوان اسلامی سوچ اور اسلامی علوم سے آراستہ ہوسکیں اور جب بھی غیروں میں بیٹھیں تو کم سے کم اسلام کا دفاع کرسکیں۔
_____________________________________
ہماری ناقص راے یہ ہے کہ جس طرح ہم لوگ 10روزه پرو گرام کرتے ہیں، ضرور کریں۔ لیکن ان دنوں کو اس طرح تقسیم کرلیں کہ 8 دن اسلام کی بنیادی معلومات اور 2 دن فضائل اہل بیت اور ذکر شہداے کربلا اور عاشورا کے لئے کر لیں۔
ارکان اسلام، تاریخ اسلام، اسلام پر ہونے والے اعتراضات، اسلام کی حقانیت وغیرہ کے بارے میں
*24 گھنٹے کا کورس تیار کیا جائے جو روزانہ 3 گھنٹہ اس طرح چلے:*
*1۔ پہلے گھنٹے میں عقائد اسلام* اور نعت
*2۔ دوسرے گھنٹے میں احکامِ اسلام* اور منقبت
*3۔ تیسرے گھنٹے میں اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے مدلل جوابات بتائے جائیں۔*
ساتھ ساتھ اددو، ہندی اور رومن اردو میں پی ڈی ایف بھی دیا جائے۔ یہ کام بآسانی ہو سکتا ہے ایک موضوع کے لیے 8 گھنٹہ کافی ہوتا ہے۔
ہماری قوم غافل ہو گئی ہے اگر اس کو صحیح راستہ نہیں دکھایا گیا تو اللہ نہ کرے لوگ گمراہی کے دہانے پر پہنچ جائیں گے اور اس کا حساب ہم علما کو میدانِ محشر میں دینا پڑے گا۔ کم سے کم اتنا تو ہو جائے کہ ہماری قوم اسلام کی بنیادی چیزیں جان جائے، ان کا شک و شبہ دور ہو جائے اور اپنے عقیدے میں پکّی ہو سکے۔
_____________________________________
لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں
میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے
(امیر قز لباسی)
Comments
Post a Comment