اپنی زمین کرکٹ، فٹبال وغیرہ کھیلنے کے لئے کرائے پر دینا کیسا ہے
*🌼 اپنی زمین کرکٹ، فٹبال وغیرہ کھیلنے کیلئے کرایہ پر دینا جائز ہے 🌼*
ا________(💚)___________
مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کہ ہماری ایک زمین ہے ہم اسے کرایہ پر کھیلنے کے لیے دینا چاھتے مثلا cricket , foot ball اب جو کھیلنے آتے ہیں یہ آپس میں ناجائز شرائط کبھی کبھی لگاتے ہیں یعنی کبھی شرط پر کھیلتے ہیں مثلا جو ٹیم ھارے گی وہ کرایہ دیگی یا کبھی necker پر کھیلتے ہیں کہ ستر نظر آتا ہے وغیرہ ۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا اسے کرایہ پر دینا جائز ہے؟
*المستفتی: عبداللہ محمد منصور، چندولال بارہ دری، حیدرآباد*
ا________(💚)___________
*الجواب بعون الملک الوھاب*
صورت مسئولہ میں آپ اپنی وہ زمین مذکورہ کاموں کیلئے کرایہ پر دے سکتے ہیں، کوئی حرج نہیں، کیونکہ معصیت اور گناہ کا تعلق نہ تو اس زمین سے ہے نہ آپ کے کرایہ پر دینے سے، گناہ کا تعلق کھیلنے والوں سے ہے، جس سے آپ برئ الذمہ ہیں
چنانچہ امام ابوالحسین احمد بن محمد قدوری بغدادی حنفی متوفی ٤٢٨ھ فرماتےہیں
*" 🖋️ولا بأس ببيع العصير ممن يعلم أنه يتخذه خمرا "*
*{📔مختصرالقدوری، کتاب الحظر والاباحۃ، ص٥٩٦، مطبوعة: مؤسسةالريان، الطبعةالأولي: ١٤٢٦ھ}*
یعنی، اس شخص کےہاتھ انگور کا رس بیچنےمیں حرج نہیں جس کے بارے میں جانتاہے کہ وہ اس سے شراب بنائےگا،
اس کی علت بیان کرتے ہوئے امام بہاءالدین محمد بن احمد اسبیجابی حنفی متوفی ٥٩١ ھ فرماتے ہیں
*"🖋️ لأن عين العصير لا تستعمل في المعصية "*
*{📔زادالفقہاء، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی الاحتکار، تحت قولہ: ولابٱس ببیع العصیر، ۲/۸۳۷، مطبوعة: جامعة أم القري، طبعة: ١٤٣٥ھ}*
یعنی یہ اسلئے جائزہےکہ عین عصیر معصیت میں استعمال نہیں ہوتا
اور امام برھان الدین ابوالحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی ٥٩٣ھ فرماتے ہیں
*"🖋️ومن آجر بیتا ليتخـذ فيـه بيت نار، أو كنيسة أو بیعة أو يبـاع فـيـه الخمـر بالسواد" ، فلا بأس به "*
*{📔الھدایة، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی الاستبرآء، ۷/۲۲۸، مطبوعۃ: ادارۃالقرآن کراتشی، الطبعۃالاولی: ۱٤١٧ھ}*
یعنی، کسی نے اپنا گھر آتشکدہ یا کلیسا یا گرجاگھر بنانے یا شراب بیچنے کیلئے اجرت پر دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں،
اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ فرماتےہیں
*" 🖋️لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبته "*
*{📔ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبرآء وغیرہ، تحت قولہ: وجاز اجارۃبیت الخ، ۹/٥٦٢، مطبوعۃ: دارالکتب العلمیۃ، طبعۃخاصۃ: ١٤٢٣ھ}*
یعنی، یہ اسلئے جائزہےکہ اجارہ گھر کی منفعت پر ہوتاہے، اسی لئے محض گھر سپرد کرتےہی اجرت لازم ہوجاتی ہے، اور اس میں کوئی معصیت نہیں، معصیت تو مستاجر یعنی اجرت پر لینےوالے کے فعل کے ساتھ ہے اور وہ اپنے فعل میں بااختیارہے فلہذا اجرت پر دینے والے سے اس گناہ کی نسبت منقطع ہوگئی،
الحاصل اپنی زمین کو کرکٹ وغيرہ کے لئے کرایہ پر دینا جاٸز ہے کیونکہ اجارہ کا انعقاد مطلقا زمین کی منفعت پر ہوا ہے شرعا اسمیں کوٸی حرج و گناہ نہیں، گناہ تو کرایہ دار کے فعل سے ہوگا جو کرکٹ فٹبال وغيرہ کھیل ناجائز شرائط کے ساتھ کھیلتے یا کھلواتے ہیں یہ کرایہ پر لینے والے کا اپنا فعل ہے، لہذا اس زمین پر ملنے والا کرایہ وصول کرنا صحیح و درست حلال و طیب ہوگا اسلئےکہ جب اپنا گھر کلیسا ، آتشکدہ، شراب بیچنے وغیرہ کیلئے دینا جائز ہے تو یہ زمین بھی کرکٹ، فٹبال وغیرہ کھیلنے کیلئے کرایہ پر دینا درست ہے، اور اس کی اجرت بھی حلال و طیب ہے
ا________(💚)___________
*واللہ تعالی اعلم بالصواب*
ا________(💚)___________
*📝۔کتبــــہ۔*
ا________(💚)___________
*العبدالفقیر الی اللہ الغنی*
*محمد شکیل اخترالقادری البرکاتی*
*شیخ الحدیث مدرسةالبنات مسلك اعلي حضرت، صدر صوفه، هبلي، كرناٹک، الھند*
*۲٦ ربیع النور ١٤٤٣ھ*
*۲ نومبر ۲۰۲۱م*
ا________(💚)___________
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح ورشید*
*محمد شرف الدین رضوی، شیخ الحدیث دارالعلوم حبیبیه قادريه، فيلخانه، هوڑه، كلكته، الهند*
ا________(💚)___________
*✅اصاب من اجاب واللہ تعالی اعلم ، محمد قاسم القادری اشرفی غفر اللہ لہ والدیہ خادم غوثیہ دار الافتا کاشی پور اتراکھنڈ*
ا________(💚)___________
*✅الجواب صحیح*
*محمد جنید نعیمی غفرلہ*
*واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب*
*والیہ المرجع والمآب*
ا________(💚)_________
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر :,۔🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛*
1221
ماشاءاللہ
ReplyDelete